بطور سپورٹ ڈانسر کیریئر کا آغاز کیا، کئی سال بعد مرکزی کردار دیے گئے، کرن حق

 

ماڈل و اداکارہ کرن حق نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے انتہائی کم عمری میں بطور سپورٹ ڈانسر کیریئر کا آغاز کیا جب کہ کئی سال تک وہ جونیئر آرٹسٹ کے طور پر کام کرتی رہیں۔

کرن حق حال ہی میں مزاحیہ پروگرام ’مذاق رات‘ میں شریک ہوئیں، جہاں انہوں نے کیریئر سمیت شوبز انڈسٹری پر کھل کر بات کی۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں پہلی بار ’تیرے پہلو میں‘ نامی ڈرامے میں اداکاری کرنے سے شہرت ملی، مذکورہ ڈرامے کی پانچ ہزار قسطیں تھیں اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے مشہور ہوگئیں۔

ان کے مطابق انہیں جونیئر آرٹسٹ سے مرکزی اداکارہ بننے میں کافی عرصہ لگا لیکن ان ہی ہدایت کاروں نے انہیں مرکزی کردار دیے، جن کے ساتھ انہوں نے سپورٹنگ اداکارہ کے طور پر کام کیا۔

— اسکرین شاٹ

انہوں نے بتایا کہ ان کا اداکاری کرنے کا کوئی شوق نہیں تھا لیکن انہیں یہ بھی علم نہیں ہوسکا کہ انہوں نے اداکاری کیوں منتخب کی اور کیسے مذکورہ شعبے کو اپنایا۔

کرن حق نے یک طرفہ محبت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کبھی کسی مرد کے ساتھ یک طرفہ محبت نہیں ہوئی، البتہ ان کے ساتھ کئی افراد کو ہوئی۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ وہ بڑی شاطر اور چالاک ہیں، وہ سمجھ جاتی ہیں کہ کون سے مرد کی نظریں کیا کہتی ہیں اور وہ ان سے کیا چاہتے ہیں، اس لیے انہوں نے ایسی یک طرفہ محبت کرنے والے تمام مردوں کی کوششیں ناکام بنائیں۔

زندگی کی سب سے بڑی کامیابی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے اپنے بیٹے کو سب سے بڑی کامیابی قرار دیا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ شادی سے قبل ان کی شادی کے رشتے کم آتے تھے کیوں کہ وہ خود بھی شادی نہیں کرنا چاہتی تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کا خیال تھا کہ وہ پیسے کما کر اہل خانہ کی مدد کریں، اس لیے وہ شادی نہیں کرنا چاہتی تھیں، کیوں کہ شادی کے بعد لڑکیاں گھر والوں کی مدد نہیں کر سکتیں۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ شادی کے بعد خواتین شوہروں کی اجازت کی محتاج ہوتی ہیں، اگر انہیں وہ ملازمت یا کمانے کی اجازت دیں گی تو وہ پیسے کمائیں گی؟

 

اسی پر انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ اگر ان کے شوہر انہیں کام کرنے سے روکیں گے تو وہ رک جائیں گی اور کوئی کام نہیں کریں گی۔

کیریئر کے آغاز میں پیش آنے والی مشکلات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ انہیں اس وقت سب سے زیادہ تکلیف ہوتی تھی جب شروعات میں کوئی ہدایت کار انہیں ملاقات کے لیے بلاتے تھے لیکن وہ ان سے ملتے ہی نہیں تھے۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ اس وقت ان کے پاس گاڑی نہیں ہوتی تھی، نہ ہی ان کے پاس اتنے پیسے ہوتے تھے، اس لیے وہ رکشہ میں آتی جاتی تھیں اور ہدایت کار کے بلانے پر وہ کئی گھنٹوں تک ان کے دفتر کے باہر انتظار کر کر کے چلی جاتی تھیں۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ ایسے وقت پر انہیں شدید مایوسی اور تکلیف ہوتی تھی اور ساتھ ہی اعتراف کیا کہ ایسے رویوں پر دلبرداشتہ ہوکر رو بھی دیتی تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ بطور اداکارہ ان کی پہلی کمائی تین ہزار روپے تھی، ابتدائی طور پر بطور سپورٹ ڈانسر اور پھر جونیئر آرٹسٹ کے طور پر کام کرنے کے کئی سال بعد مرکزی کردار ادا کیے۔

Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے