‘عمران خان الیکشن کے لیے اہل ہیں اور ہمارا نشان بھی بلا ہو گا’


سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے وکیل ڈاکٹر بابر اعوان کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی بروقت اور شفاف انتخابات کا اصرار کر رہی ہے اور کسی صورت انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کرے گی۔

اسلام آباد میں وائس آف امریکہ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں بابر اعوان نے کہا کہ پی ٹی آئی انتخابات کے حوالے سے حکمتِ عملی وضع کر چکی ہے جس کے تحت ہر حلقے میں اُمیدوار کھڑے کریں گے۔

وہ کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کا پیغام ہے کہ وہ جمہوریت کے ذریعے سماج کو حقیقی آزادی دلوائیں گے لہذا انتخابات کے بائیکاٹ کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔

خیال رہے کہ رواں برس نو مئی کو سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہونے والے مظاہروں اور فوجی تنصیبات پر حملوں کے بعد پی ٹی آئی کے کئی رہنما زیرِ حراست یا منظر نامے سے غائب ہیں۔

بعض حلقوں کا یہ کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے پاس آئندہ برس آٹھ فروری کو شیڈول انتخابات کے لیے اُمیدوار نہیں ہوں گے۔ تاہم پارٹی رہنما اس تاثر کو رد کرتے ہیں۔

بابر اعوان کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں مانگتی لیکن الیکشن کمیشن اور حکومت سے کہتی ہے کہ انہیں صرف انتخابی مہم چلانے دی جائے۔

صدر علوی کی جانب سے نگراں وزیرِ اعظم کو پی ٹی آئی کے تحفظات پر مبنی خط بھجوانے کے جواب میں بابر اعوان نے کہا کہ صدر علوی کی جانب سے حکومت کو پی ٹی آئی کے تحفظات دور کرنے کے خط کے بعد ان کی مشکلات کم نہیں ہوئیں بلکہ مزید بڑھ گئی ہیں۔

خیال رہے کہ صدر عارف علوی نے گزشتہ ماہ نگراں وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ کو خط لکھا تھا جس میں تمام سیاسی جماعتوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ دینے کی بات کی گئی تھی۔

صدرِ مملکت نے پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے صدر کے نام لکھے گئے خط کا بھی حوالہ دیا تھا۔

صدر نے کہا تھا کہ اُنہیں سیاسی وابستگیاں رکھنے والے افراد کو جبری طور پر لاپتا کرنے کے واقعات پر تشویش ہے۔

 

                                                                         ‘عمران خان الیکشن میں حصہ لیں گے’

بابر اعوان کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے بانی سربراہ انتخابات میں حصہ لیں گے اور اس حوالے سے ان کی نااہلی کا تاثر درست نہیں ہے۔

بابر اعوان کے بقول "عمران خان بھی ہوں گے، انتخابی نشان ‘بلا’ بھی ہو گا اور اور پی ٹی آئی پاکستان کے ہر حلقے سے اپنا امیدوار کھڑا کرے گی۔”

                                                                   ‘پی ڈی ایم اب بھی الیکشن سے بھاگ رہی ہے’

بابر اعوان کہتے ہیں کہ عمران خان کے خلاف مقدمات کی تعداد اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا انتخابات میں راستہ روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کہ پاکستان میں جمہوری روایات، انتخابی جمہوریت اور لوگوں کی آواز کو دبانے کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ نگراں حکومت اور الیکشن کمیشن کی ذمے داری کہ شفاف اور وقت پر انتخابات کی ذمہ داری کو نبھائیں بصورتِ دیگر موجودہ نگراں حکومت پہلے ہی اپنی آئینی مدت سے اوپر جا چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کے باہر آنے سے ان سیاسی جماعتوں کو خطرہ ہے جو الیکشن میں پی ٹی آئی کا مقابلہ نہیں کر پا رہی ہیں۔

اُن کے بقول پی ڈی ایم کی جماعتیں آج بھی انتخابات سے بھاگ رہی ہیں اور کہتی ہیں کہ الیکشن کا ماحول نہیں ہے۔

 

                                     ‘الیکشن شیڈول کے بعد حکمتِ عملی کے تحت میدان میں آئیں گے’

بابر اعوان نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اپنی انتخابی حکمتِ عملی بنا رکھی ہے کہ اشتہاری ہونے والے رہنماؤں نے کب سامنے آنا ہے تاکہ وہ انتخابات میں حصہ لے سکیں۔

انہوں نے کہا کہ قانون میں ایسی کوئی قدغن نہیں ہے کہ امیدوار کو اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے لیے خود پیش ہونا ہو بلکہ وہ اپنے کسی نمائندے کے ذریعے بھی انتخابات میں شمولیت کے لیے کاغذات جمع کرا سکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ جن پی ٹی آئی رہنماؤں کو فرضی مقدمات میں اشتہاری قرار دیا گیا ہے وہ جب عدالت میں پیش ہوں گے تو مطلوب نہیں رہیں گے اور الیکشن میں حصہ لینے کے اہل ہو جائیں گے۔

                            ‘عمران خان امریکی سفارت کار کو بلوا کر بے گناہی ثابت کرنا چاہتے ہیں’

ڈاکٹر بابر اعوان کہتے ہیں کہ سابق وزیرِ اعظم سائفر کیس میں اعلی ریٹائر فوجی آفیسر اور امریکی سفارت کار کو اس لیے بلوانا چاہتے ہیں تاکہ ان کے ذریعے اپنی بے گناہی ثابت کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم کا اس وقت جیل میں ٹرائل کیا جا رہا ہے اور اپنی شہادت اور صفائی میں جسے ضروری سمجھیں گے بلوائیں گے۔

یاد رہے کہ رواں ہفتے عمران خان نے اڈیالہ جیل میں جاری اپنے سائفر کیس کی سماعت کے دوران مطالبہ کیا تھا کہ اس مقدمے میں سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور امریکی سفارت خانے کے آفیشلز کو بطور گواہ بلایا جائے۔

اس سوال پر کہ امریکی سفارت کار کو کس قانون کے تحت بلوایا جائے گا؟ بابر اعوان نے کہا کہ امریکی سفارت کار کو عدالت میں بلوانا کوئی انوکھی بات نہیں بلکہ ماضی میں امریکی انٹیلی جینس ادارے سی آئی اے کے آفیسر کے خلاف پاکستان میں مقدمہ بھی درج ہو چکا ہے۔

 

وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری کا جب سوال آئے گا تو اس سوال کو ثابت کرنے کے لیے فریق کو حق حاصل ہے کہ بطور گواہ عدالت بلوائے اور جرح کے ذریعے مقدمے سے متعلق معلومات نکال کر عدالت کے سامنے رکھے۔

سائفر کی دستاویز وزیرِ اعظم ہاؤس سے گم ہونے کے سوال پر بابر اعوان نے کہا کہ عمران خان ملک کے چیف ایگزیکٹو تھے اور ان کے سیکرٹریٹ میں ذمے دار سول و فوجی افسران کام کرتے ہیں لہذا سائفر غائب ہونے کی بات درست نہیں لگتی۔

                                         ‘حکومت کے خاتمے میں امریکی مداخلت کے مؤقف پر قائم ہیں’

ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ پی ٹی آئی غیر ملکی مداخلت کے ذریعے اپنی حکومت کے خاتمے کے مؤقف پر قائم ہے۔

اس سوال پر کہ عمران خان نے تو کہا تھا کہ ان کی حکومت کے خاتمے کی سازش باہر سے نہیں ہوئی تھی؟ جواب میں بابر اعوان کہتے ہیں کہ یہ معاملہ ابھی زیر سماعت ہے اور وہ اس پر زیادہ گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔

تاہم وہ کہتے ہیں کہ امریکی سفارت کار جن اراکین اسمبلی سے ملتے رہے بعد ازاں انہی نے عدم اعتماد کی تحریک میں کردار ادا کیا اور پی ٹی آئی کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے سائفر کے حوالے سے جو بات کی تھی واقعات نے اسے درست ثابت کیا۔

بیرسٹر گوہر کو پی ٹی آئی کا نیا چیئرمین منتخب کیے جانے پر بابر اعوان نے کہا کہ اصل فیصلہ ساز عمران خان ہی ہیں اور نئے چیئرمین کا انتخابات صرف قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

اپنے انتخابات میں حصہ لینے کے سوال پر بابر اعوان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اگر عمران خان نے انہیں الیکشن لڑوانا ہے تو نواز شریف کے مقابلے میں کھڑا کریں تاکہ معلوم ہو سکے کہ پی ٹی آئی کتنی تگڑی ہے


Posted

in

by

Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے