یمن پر پھر بمباری، 5 حوثی ہلاک: ٹاسک فورس میں شامل نہیں ہونگے، پاکستان کا امریکہ کو انکار

یمن پر پھر بمباری، 5 حوثی ہلاک: ٹاسک فورس میں شامل نہیں ہونگے، پاکستان کا امریکہ کو انکار

صنعا‘ واشنگٹن‘ روم‘ اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ + این این آئی + نیٹ نیوز) امریکی فوج نے یمن میں دوسرے حملے کی تصدیق کر دی۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا کہ یمن میں حوثیوں کی راڈار سائٹ اور حزب اﷲ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی بحریہ کے جہاز سے حوثیوں کی ریڈار سائٹ پر ٹاماہاوک میزائل فائر کئے گئے۔ ایک سرکاری ذریعے نے بتایاہے کہ اٹلی نے یمن میں حوثی گروپ کے خلاف امریکی اور برطانوی حملوں میں حصہ لینے سے راتوں رات انکار کر دیا اور وضاحت کی ہے کہ روم نے بحیر احمر میں سکون کی پالیسی پر عمل کرنے کو ترجیح دی۔ امریکی حکام نے کہا کہ امریکہ اور برطانیہ نے فضا اور سمندر سے یمن میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا جبکہ نیدرلینڈ، آسٹریلیا، کینیڈا اور بحرین نے لاجسٹک اور انٹیلی جنس مدد فراہم کی۔ امریکی حکام نے بتایا 16 مقامات پر بمباری کی۔ ان میں حوثیوں کے گڑھ یمن دارالحکومت صنعا اور الحدیدہ شامل ہیں۔ مزید 5 حوثی مارے گئے۔ سعودی عرب نے امریکی برطانوی حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان وائٹ ہاؤس جان کربی نے کہا حملوں کے بعد کسی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انتظامیہ حوثی گروپ کو دوبارہ دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں دوبارہ شامل کرنے کے امکان کا جائزہ لے رہی ہے۔ برطانوی میری ٹائم سکیورٹی کمپنی ایمبرے کے ترجمان نے کہا حوثی ملیشیا نے غلطی سے روسی تیل لے جانیوالے ٹینکر کو میزائل حملے میں نشانہ بنایا۔ روس نے حوثیوں پر امریکی اور برطانوی حملوں کو دوسرے ملک کے خلاف کھلی مسلح جارحیت قرار دے دیا۔ یمن کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اجلاس ہوا جہاں روس نے حوثیوں پر امریکی اور برطانوی حملوں کو دوسرے ملک کے خلاف کھلی مسلح جارحیت قرار دے دیا۔ اقوام متحدہ میں روسی سفیر نے کہاکہ تمام ریاستوں نے یمنی سرزمین پر بڑے پیمانے پر حملہ کیا، یہ ملک کے اندر کسی گروہ پر حملے کی بات نہیں بلکہ پورے ملک کے لوگوں پر حملے کی بات ہے۔ یمن پر حملے میں جنگی جہاز اور آبدوزیں بھی استعمال کی گئی ہیں۔ چینی مندوب نے امریکی حملے کی مذمت کرتے کہا یمن میں فوجی آپریشن سے مطلوبہ اہداق حاصل نہیں ہو سکتے۔ بحیرہ احمر میں فوجی کارروائیاں یو این قرارداد کی خلاف ورزی‘ اثرورسوخ رکھنے والے ممالک اس سمندری آبی گزرگاہوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار ادا کریں۔ امریکی بمباری کیخلاف صنعت میں 10  لاکھ سے زائد افراد نے مظاہرہ کیا۔ امریکہ کے شہر سیاٹل میں بھی احتجاج ہوا جس میں یمن کی حمایت میں نعرے لگائے گئے۔ تہران میں برطانوی سفارتخانے کے سامنے بڑا مظاہرہ کیا گیا۔ ادھر پاکستان نے بحیرہ احمر میں حوثی حملوں کے خلاف ٹاسک فورس 153 میں شامل ہونے کی امریکی دعوت مسترد کر دی۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان نیوی کے جہازوں کی بحیرہ عرب میں تعیناتی ٹاسک فورس 153 سے جوڑنے میں حقیقت نہیں۔ پاکستان نیوی کے جہازوں کی تعیناتی کو حوثیوں کیخلاف امریکی کارروائی سے جوڑنا پروپیگنڈا ہے۔ امریکا نے بحیرہ احمر میں حوثی حملوں کے خلاف ٹاسک فورس 153 بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن پاکستان نے ٹاسک فورس 153 میں شامل ہونے کی امریکی دعوت مستردکردی۔  سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان بحیرہ احمر میں ٹاسک فورس 153 اورآپریشن پراسپیرٹی گارڈین کاحصہ نہیں، حوثیوں کیخلاف امریکی اتحادی حملوں کا پاکستان نیوی کے جہازوں کی تعیناتی سے تعلق نہیں۔ سکیورٹی ذرائع نے بتایاکہ پاکستان ٹاسک فورس 153 سمیت ایسے کسی اتحاد میں شمولیت کا ارادہ نہیں رکھتا جو مسئلہ فلسطین کے خلاف ہو۔ بحیرہ احمر میں حوثیوں کے خلاف امریکہ اور برطانیہ کے حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا۔ 1.3 فیصد مزید اضافے کے بعد برینٹ کی قیمت 78 ڈالر 29 سینٹ فی بیرل ہو گئی۔ ڈبلیو ٹی آئی کی فی بیرل قیمت 72 ڈالر 68 سینٹ ہو گئی۔ 


Posted

in

by

Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے